حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، طلاب و فضلاء حوزہ علمیہ قم کی نمائندہ کونسل کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین سید جلال رضوی مہر نے حوزہ نیوز کے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: اس سال محرم پچھلے سالوں سے مختلف ہے، یہ پہلا محرم ہے جب ہم عظیم الشان شہید قائد، انقلاب اسلامی کے شہید پیشوا حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام شہید سید علی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) کی جدائی کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا: اس سال ہمارا محرم اور عزاداری اس لیے دوگنی ہوگی کیونکہ ہم اس بار کربلائے حسینی اور رہبر شہید (رہ) دونوں کے عزادار ہیں۔ رہبر شہید (رہ) جو خود بھی وطن دوست تھے اور ایران اسلامی کے لیے دین و شریعت کی بقا اور انقلاب اسلامی کے تسلسل کے لیے فدا ہوئے۔
حجت الاسلام سید جلال رضوی مہر نے کہا: آج ایران اسلامی کی سڑکیں ایک امام بارگاہ میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ جیسا کہ شہید حاج قاسم سلیمانی نے فرمایا تھا کہ "ایران حرم ہے"، درحقیقت سیدالشہداء کا حرم صرف کربلا کے ضریح تک محدود نہیں ہے۔
انہوں نے کہا: حسینی انجمنیں اپنی مجالس کو سڑکوں اور چوکوں تک لے جائیں، محلوں، مساجد اور تکایا کو سڑکوں اور گلیوں میں لائیں۔ جس طرح عاشورا میں آسمان حضرت أبا عبداللہ الحسین علیہ السلام کے بچوں کی چھت بنا اور زمین ان کے قدموں تلے فرش بنی، ہم بھی زیر آسمان اور وسیع زمین ایران اسلامی میں مواکب، انجمنوں اور عوام کے درمیان یہ رشتہ قائم کر سکتے ہیں۔
طلاب و فضلاء حوزہ علمیہ قم کی نمائندہ کونسل کے سربراہ نے کہا: انقلابِ اسلامی کی فطرت ایسی ہے کہ یہ اسلام سے جدا نہیں ہے۔ انقلاب اسلامی نے عاشورا سے مہدویت تک ایک پل قائم کیا ہے اور اس راستے میں جو پاک خون بہا ہے، وہ سب اباعبداللہ علیہ السلام کے راستے میں ہے۔
انہوں نے کہا: آج امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے نائب حضرت آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای اسی راستے کو مضبوطی، دانشمندی اور بہترین انتظام کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہماری قوم دین اسلام کے لیے فدا ہوئی اور اللہ بھی اس قوم کا دفاع کرتا ہے جیسا کہ آیت "إِنَّ اللَّهَ یُدَافِعُ عَنِ الَّذِینَ آمَنُوا" میں آیا ہے۔ اسی وجہ سے دنیا نے دیکھا کہ ہماری قوم نے شیطانی طاقتوں کو اپنے مضبوط ارادے سے کچل کر رکھ دیا۔









آپ کا تبصرہ